رہنمائی سب کے لیے, ابتدائی, محفوظ استعمال
ڈیپ فیک اور آواز کی نقل والے فراڈ: انہیں کیسے پہچانیں
فراڈ کرنے والے اب چند سیکنڈ کی ریکارڈنگ سے کسی کی آواز کی نقل اور جعلی ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ یہ فراڈ کیسے ہوتے ہیں، خطرے کی علامات کیا ہیں اور آپ کو کیا کرنا چاہیے۔
آخری نظرثانی: . نظرثانی کنندہ: Muhammad Asadullah.
کیا بدل گیا ہے؟
پاکستان میں فون اور آن لائن فراڈ کوئی نئی بات نہیں۔ نئی بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے انہیں کہیں زیادہ قابلِ یقین بنا دیا ہے۔ کسی کی آواز کے چند سیکنڈ، جو واٹس ایپ وائس نوٹ، کسی ویڈیو یا فون کال سے لیے گئے ہوں، اب ایسا سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے کافی ہیں جو بالکل اُسی شخص کی طرح بولے۔ اسے آواز کی نقل (Voice cloning) کہتے ہیں۔ اسی ٹیکنالوجی سے کسی حقیقی شخص کی ایسی جعلی ویڈیو بھی بنائی جا سکتی ہے جس میں وہ ایسی باتیں کہتا دکھائی دے جو اس نے کبھی نہیں کہیں۔ اسے ڈیپ فیک (Deepfake) کہتے ہیں۔
آپ کو ٹیکنالوجی سمجھنے کی ضرورت نہیں، بس اِن چالوں کو پہچاننا ضروری ہے۔
کن فراڈ سے ہوشیار رہیں
- خاندانی ایمرجنسی کی کال۔ آپ کو ایسی کال یا وائس نوٹ آتا ہے جو بالکل آپ کے بیٹے، بیٹی، بھائی یا والدین کی آواز میں ہے۔ وہ رو رہے ہیں یا گھبرائے ہوئے ہیں: کوئی حادثہ ہو گیا ہے، گرفتاری ہو گئی ہے یا اغوا ہو گیا ہے۔ انہیں فوراً پیسے چاہییں اور وہ منت کرتے ہیں کہ کسی کو نہ بتائیں۔
- جعلی افسر۔ کال کرنے والا خود کو بینک، موبائل کمپنی، پولیس یا کسی سرکاری دفتر کا نمائندہ بتاتا ہے۔ اسے آپ کا نام اور کچھ تفصیلات معلوم ہوتی ہیں۔ وہ آپ کے فون پر آیا ہوا کوڈ، کارڈ نمبر یا "تصدیق" کے نام پر کوئی ادائیگی مانگتا ہے۔
- مشہور شخصیت کی جعلی ویڈیو۔ کسی مشہور یا عوامی شخصیت کی ویڈیو جس میں وہ کسی سرمایہ کاری اسکیم، انعامی اسکیم یا قرض کی ایپ کی تشہیر کرتا نظر آتا ہے۔ چہرہ اور آواز اصلی لگتے ہیں، مگر پیشکش جعلی ہوتی ہے۔
- بلیک میلنگ کے لیے جعلی تصویر۔ مجرم کسی شخص کی جعلی اور شرمناک تصاویر بنا کر دھمکی دیتے ہیں کہ پیسے نہ ملے تو انہیں پھیلا دیں گے۔
خطرے کی علامات
- فوراً کچھ کرنے کا دباؤ، تاکہ آپ سوچ نہ سکیں یا کسی سے پوچھ نہ سکیں
- بات کو راز رکھنے کا اصرار
- غیر معمولی طریقے سے ادائیگی: کسی انجان نمبر پر موبائل والٹ سے رقم، گفٹ کارڈ یا کرپٹو کرنسی
- ون ٹائم کوڈ (OTP)، پن یا پاس ورڈ کا مطالبہ۔ کوئی اصلی بینک یا سرکاری ادارہ یہ کبھی نہیں مانگتا
- چھوٹی چھوٹی بے ترتیبیاں: آواز کچھ سپاٹ سی لگے، وہ شخص ایسے سوالوں سے کترائے جن کا جواب صرف وہی جانتا ہو، ویڈیو میں چہرے کے کنارے دھندلے ہوں یا ہونٹ الفاظ سے پوری طرح نہ ملیں
اُس لمحے کیا کریں
- رکیں۔ فراڈ آپ کو جلد بازی میں ڈال کر ہی کامیاب ہوتا ہے۔ اصلی ایمرجنسی دو منٹ کی تصدیق برداشت کر سکتی ہے۔
- کال کاٹیں اور خود واپس کال کریں، اُس نمبر پر جو آپ کے پاس پہلے سے اُس شخص یا ادارے کے نام سے محفوظ ہے۔ اُس نمبر پر نہیں جس سے کال آئی تھی۔
- ایسا سوال پوچھیں جس کا جواب صرف اصلی شخص جانتا ہو، یا خاندانی کوڈ ورڈ استعمال کریں (نیچے دیکھیں)۔
- کبھی OTP، پن یا پاس ورڈ نہ بتائیں، چاہے مانگنے والا کوئی بھی ہو۔
- پیسے نہ بھیجیں جب تک کسی دوسرے، الگ ذریعے سے کہانی کی تصدیق نہ ہو جائے۔
خاندانی کوڈ ورڈ طے کریں
کوئی آسان لفظ یا جملہ چنیں جو آپ کے خاندان میں سب کو معلوم ہو اور جو کبھی انٹرنیٹ پر نہ آئے۔ اگر کوئی پریشانی کے عالم میں فون کر کے پیسے مانگے تو اُس سے کوڈ ورڈ پوچھیں۔ نقل کی گئی آواز اسے نہیں جانتی ہوگی۔ بزرگ والدین کے ساتھ یہ ضرور طے کریں، کیونکہ اکثر انہی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اگر آپ کو نشانہ بنایا گیا ہو
- پیسے بھیج دیے یا بینک کی تفصیلات بتا دیں: فوراً اپنے بینک کو اُس نمبر پر کال کریں جو آپ کے کارڈ کی پشت پر یا بینک کی سرکاری ویب سائٹ پر درج ہے، اور لین دین یا اکاؤنٹ بند کروائیں۔ بینک یا موبائل والٹ سے متعلق شکایت کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہیلپ لائن 111 727 273 پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
- جرم کی رپورٹ کریں: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی سائبر کرائم ہیلپ لائن 1799 پر کال کریں۔
- جعلی کالز یا پیغامات: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے شکایتی پورٹل یا اس کی شکایتی ایپ کے ذریعے رپورٹ کریں۔
- ثبوت محفوظ رکھیں: اسکرین شاٹس، فون نمبر، وائس نوٹس، ٹرانزیکشن آئی ڈی اور وقت۔ انہیں ڈیلیٹ نہ کریں۔
نشانہ بننے میں کوئی شرمندگی کی بات نہیں۔ یہ فراڈ محتاط اور پڑھے لکھے لوگوں کو بھی دھوکا دے جاتے ہیں۔ جلد رپورٹ کرنے سے رقم روکنے اور دوسروں کو بچانے کا بہترین موقع ملتا ہے۔