رہنمائی سرکاری ملازمین, سب کے لیے, ابتدائی, تمام محکمے

خودمختار مصنوعی ذہانت: یہ کیا ہے اور پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے

خودمختار مصنوعی ذہانت (Sovereign AI) سے کیا مراد ہے، کسی ملک کو اس کے لیے کن چار چیزوں کی ضرورت ہے، قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 اس بارے میں کیا کہتی ہے اور سرکاری ملازمین، شہریوں اور ملک اور بیرونِ ملک پاکستانی ماہرین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔

آخری نظرثانی: . نظرثانی کنندہ: Muhammad Asadullah.

ایک پیراگراف میں

خودمختار مصنوعی ذہانت (Sovereign AI) کا مطلب ہے کہ کوئی ملک جس مصنوعی ذہانت پر انحصار کرتا ہے، اسے اپنی شرائط پر بنا سکے، چلا سکے اور اس کے اصول طے کر سکے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ ملک کے اندر بنایا جائے یا غیر ملکی ٹولز سے انکار کر دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے پاس اپنا اتنا ڈیٹا، کمپیوٹنگ کی صلاحیت، ماڈلز اور ماہر لوگ ہوں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق فیصلے ملک خود کرے، اپنی زبانوں میں اور اپنے قوانین کے تحت۔ پاکستان کے لیے یہ کوئی نظریاتی بات نہیں۔ اسی سے طے ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اردو بولنے والوں کی اچھی طرح خدمت کرے گی یا نہیں، شہریوں کا ڈیٹا کہاں رکھا جائے گا اور جن خدمات پر لوگ انحصار کرتے ہیں انہیں باہر سے بند یا مہنگا تو نہیں کیا جا سکتا۔

چار بنیادی اجزا

اس موضوع پر کام کرنے والے عموماً خودمختار مصنوعی ذہانت کو چار حصوں میں بیان کرتے ہیں۔ کوئی ملک کچھ حصوں میں مضبوط اور کچھ میں دوسروں پر منحصر ہو سکتا ہے۔

حصہاس سے کیا مراد ہےپوچھنے کا سوال
ڈیٹاملک، اس کے لوگوں اور اس کی زبانوں سے متعلق معلومات، جو اس کے اپنے قوانین کے تحت جمع اور محفوظ ہوںہمارا ڈیٹا (Data) کہاں محفوظ ہے اور اس کے استعمال کا فیصلہ کون کرتا ہے؟
کمپیوٹنگوہ کمپیوٹر اور ڈیٹا سینٹر جو مصنوعی ذہانت کی تربیت اور اسے چلانے کے لیے ضروری ہیںکیا ہم اپنی ضرورت کی مصنوعی ذہانت ایسے نظام پر چلا سکتے ہیں جو ہمارے اختیار میں ہو یا جس پر بھروسا کیا جا سکے؟
ماڈلزخود مصنوعی ذہانت کے نظام، جیسے بڑے لسانی ماڈل (Large Language Model)کیا ہمارے پاس ایسے ماڈل ہیں جو ہماری زبانیں، قوانین اور حالات سمجھتے ہوں؟
لوگ اور قواعدمحققین، انجینئر، مصنوعی ذہانت کو پرکھنے والے افسران اور اسے منظم کرنے والے قوانینکیا ہمارے پاس مصنوعی ذہانت کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنے اور غلطی ہونے پر اسے درست کرنے کی مہارت اور قواعد ہیں؟

پہلے حصے کا اپنا الگ نام ہے: ڈیٹا کی خودمختاری (Data sovereignty)، یعنی یہ کہ ڈیٹا جسمانی طور پر جہاں موجود ہے اس کی وجہ سے اس پر کس ملک کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔

یہ کیا نہیں ہے

تین غلط فہمیاں عام ہیں۔

  • یہ دنیا سے کٹ جانا نہیں۔ کوئی ملک مصنوعی ذہانت کا ہر حصہ اکیلے نہیں بناتا۔ چپس، تحقیق اور سافٹ ویئر سرحدوں کے آر پار جاتے ہیں۔ ایک حالیہ تجزیے کے مطابق خودمختاری ہاں یا نہیں کا معاملہ نہیں بلکہ ایک درجہ بندی ہے: ملک طے کرتا ہے کہ کہاں اسے اختیار چاہیے اور کہاں دوسروں کے ساتھ کام کرنے کا فائدہ خطرے سے زیادہ ہے۔ حوالہ جات اس صفحے کے آخر میں درج ہیں۔
  • یہ غیر ملکی ٹولز پر پابندی نہیں۔ افسران اور شہری دوسرے ممالک کی بنائی ہوئی مصنوعی ذہانت استعمال کرتے رہیں گے۔ خودمختار مصنوعی ذہانت کا مقصد انتخاب کا حق رکھنا ہے، اسے ختم کرنا نہیں۔
  • یہ صرف حکومتوں کا کام نہیں۔ جامعات، اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سب وہ مہارتیں اور ٹولز تیار کرتے ہیں جو ملک کا انحصار کم کرتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے

زبان۔ آج کے چیٹ بوٹس نے جس متن سے سیکھا ہے اس کا زیادہ تر حصہ انگریزی اور چند دوسری بڑی زبانوں میں ہے۔ اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی اور پاکستان کی دوسری زبانیں اس میں بہت کم ہیں۔ اسی لیے مصنوعی ذہانت اکثر بے ربط اردو لکھتی ہے، سرکاری اصطلاحات کا غلط ترجمہ کرتی ہے یا نستعلیق رسم الخط غلط پڑھتی ہے۔ پاکستانی زبانوں میں اچھے پاکستانی ڈیٹا پر تربیت پانے والے ماڈل کہیں زیادہ لوگوں کی بہتر خدمت کریں گے۔

شہریوں کا ڈیٹا۔ جب کوئی دفتر کسی غیر ملکی مصنوعی ذہانت کی سروس میں معلومات ڈالتا ہے تو وہ معلومات عموماً ملک سے باہر چلی جاتی ہیں اور فراہم کنندہ کی شرائط اور کسی دوسرے ملک کے قوانین کے تحت آ جاتی ہیں۔ ذاتی اور سرکاری ریکارڈ کے لیے یہ اہم ہے۔ خودمختار مصنوعی ذہانت میں یہ صلاحیت شامل ہے کہ حساس ڈیٹا پاکستان میں رہے اور پھر بھی اس پر مصنوعی ذہانت استعمال کی جا سکے۔

تسلسل۔ باہر سے چلنے والی سروس کسی بھی وقت اپنی قیمت، شرائط یا دستیابی بدل سکتی ہے۔ جدید چپس اور ماڈلز تک رسائی دوسرے ممالک کے قواعد سے بھی محدود ہو سکتی ہے۔ جو عوامی خدمت مکمل طور پر کسی ایک غیر ملکی ٹول پر منحصر ہو وہ کمزور ہوتی ہے۔ مقامی متبادل یا کم از کم ایک دوسرا فراہم کنندہ اسے زیادہ مضبوط بناتا ہے۔

سیاق و سباق اور اقدار۔ مصنوعی ذہانت کا کوئی نظام اسی ڈیٹا کی عکاسی کرتا ہے جس سے اس نے سیکھا۔ پاکستانی ڈیٹا سے بنے ماڈل مقامی قوانین، جگہوں کے ناموں، اداروں اور بول چال کو بہتر سمجھیں گے۔ انہیں یہاں کے اہم طبقات کے خلاف تعصب (Bias) کے لیے جانچنا بھی آسان ہوگا۔

مہارت اور معاشی فائدہ۔ جب مصنوعی ذہانت ملک میں بنائی اور چلائی جاتی ہے تو روزگار، مہارت اور معاشی فائدے کا بڑا حصہ ملک میں رہتا ہے۔ ہر وہ پاکستانی انجینئر جو ماڈلز کی تربیت، انہیں ڈھالنا اور جانچنا سیکھتا ہے، اس صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، چاہے وہ کہیں بھی رہتا ہو۔

قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کیا کہتی ہے

قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 میں "خودمختار مصنوعی ذہانت" کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔ لیکن اس کے کئی اہداف اسی سمت میں ہیں۔ حصوں کے حوالے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی شائع کردہ پالیسی دستاویز کے مطابق ہیں۔ پالیسی صرف انگریزی میں شائع ہوئی ہے، اس لیے ذیل کی باتیں اس کا خلاصہ ہیں، سرکاری ترجمہ نہیں۔

  • مقامی حل۔ اپنے ترقیاتی مقاصد میں پالیسی درآمد شدہ ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی مصنوعی ذہانت کے حل کی تحقیق، تیاری اور تجارتی استعمال کی حمایت کرتی ہے۔ استعمال سے متعلق حصے (4.2) میں درآمد شدہ متبادلات کے مقابلے میں مقامی طور پر تیار حل کو ترجیح دینے کی بات کی گئی ہے۔
  • کمپیوٹنگ۔ پانچویں ستون کے خلاصے میں تمام فریقوں کی مشاورت سے قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کا کمپیوٹنگ نیٹ ورک (national AI compute grid) قائم کرنا شامل ہے۔ حصہ 5.1 ملک گیر مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کی بات کرتا ہے۔
  • ڈیٹا۔ حصہ 5.2 مصنوعی ذہانت کی تربیت کے لیے مرکزی، اعلیٰ معیار کے ڈیٹا سیٹس کے ساتھ قومی اور صوبائی مصنوعی ذہانت ڈیٹا ذخیرہ (National and Provincial AI Data Repository) تجویز کرتا ہے۔
  • ماڈلز۔ انفراسٹرکچر کے ستون کے کارکردگی کے اشاریوں میں مقامی بڑے لسانی ماڈل شامل ہیں۔ حصہ 5.4 کا ہدف ہر سال تقریباً 50 نئے ماڈل کھلے پلیٹ فارمز پر پیش کرنا ہے۔
  • زبانیں۔ حصہ 2.1 کہتا ہے کہ آگاہی کا مواد قومی اور علاقائی زبانوں میں پھیلایا جائے گا۔

پالیسی کلاؤڈ فرسٹ پالیسی 2022 کے مطابق عوامی کلاؤڈ سروسز کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی کرتی ہے (حصہ 5.4)۔ یہ عملی توازن دکھاتا ہے: جہاں مناسب ہو عالمی سروسز استعمال کی جائیں اور ساتھ ساتھ قومی صلاحیت بھی بنائی جائے۔

مشکلات اور انتخاب

خودمختار مصنوعی ذہانت کے لیے کوشش کرنا قابلِ قدر ہے، لیکن یہ نہ مفت ہے نہ جلد ممکن۔

  • لاگت۔ ڈیٹا سینٹر، چپس اور بجلی مہنگے ہیں۔ سب کچھ ملک کے اندر بنانا زیادہ تر ممالک کی استطاعت سے کہیں زیادہ مہنگا ہوگا۔
  • معیار۔ سب سے بڑے غیر ملکی ماڈل بہت قابل ہیں۔ کوئی مقامی ماڈل اردو میں بہتر مگر کچھ برسوں تک دوسرے کاموں میں کمزور ہو سکتا ہے۔
  • ماہرین۔ بہت سے ہنرمند پاکستانی بیرونِ ملک کام کرتے ہیں۔ ان کے علم کو واپس لانا، خود آ کر یا دور رہ کر، اسی کام کا حصہ ہے۔
  • درمیانی راستہ۔ کھلے وزن والے ماڈل (Open-weight model) ڈاؤن لوڈ کر کے مقامی کمپیوٹرز پر چلائے جا سکتے ہیں اور پاکستانی ڈیٹا پر ان کی خصوصی تربیت (Fine-tuning) کی جا سکتی ہے۔ چھوٹے لسانی ماڈل (Small language model) جیسے نسبتاً چھوٹے ماڈلز کو کمپیوٹنگ کی صلاحیت (Compute) بہت کم درکار ہوتی ہے۔ ان راستوں سے کوئی ملک سب کچھ شروع سے بنائے بغیر اختیار حاصل کر سکتا ہے۔

آپ کے لیے اس کا مطلب

اگر آپ سرکاری ملازم ہیں

  1. پوچھیں ڈیٹا کہاں جاتا ہے۔ کوئی بھی مصنوعی ذہانت کا ٹول استعمال کرنے یا خریدنے سے پہلے پوچھیں کہ ڈیٹا کس ملک میں محفوظ اور پروسیس ہوتا ہے اور کیا اسے تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہماری رہنمائی مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنی سے پوچھنے کے سوالات میں یہ سوالات درج ہیں۔
  2. حساس معلومات عوامی ٹولز سے دور رکھیں۔ سرکاری کام کے لیے صرف وہی ٹولز استعمال کریں جن کی آپ کا محکمہ منظوری دے۔
  3. کسی ایک فراہم کنندہ پر انحصار سے بچیں۔ ایسے نظام ترجیح دیں جن سے آپ اپنا ڈیٹا نکال سکیں اور فراہم کنندہ بدل سکیں۔
  4. اپنے ریکارڈ کی قدر کریں۔ اردو اور انگریزی میں ڈیجیٹل اور منظم سرکاری ریکارڈ مستقبل کی پاکستانی مصنوعی ذہانت کا خام مال ہیں۔ انہیں اچھی حالت میں رکھنا بنیادی کام کا حصہ ہے۔

اگر آپ عام شہری ہیں

  1. جانیں آپ کی معلومات کہاں جاتی ہیں۔ مفت مصنوعی ذہانت کی ایپس عموماً آپ کی لکھی باتیں بیرونِ ملک سرورز پر محفوظ کرتی ہیں۔ ہماری رہنمائی مصنوعی ذہانت اور آپ کی پرائیویسی پڑھیں۔
  2. انٹرنیٹ پر اچھی اردو استعمال کریں اور لکھیں۔ پاکستانی زبانوں میں جتنا اچھا متن موجود ہوگا، مستقبل کی مصنوعی ذہانت انہیں اتنا ہی بہتر سمجھے گی۔

اگر آپ ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہیں، پاکستان میں یا بیرونِ ملک

  1. پاکستانی زبانوں کے لیے بنائیں۔ اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے ڈیٹا سیٹس، آواز پہچاننے کے نظام، نستعلیق متن پہچاننے کے نظام اور جانچ کے ٹیسٹ سب کی ضرورت ہے۔
  2. جہاں ممکن ہو کھلے طور پر شیئر کریں۔ کھلے ڈیٹا سیٹس اور کھلے ماڈلز دوسروں کو آپ کے کام پر آگے بڑھنے دیتے ہیں۔
  3. ہمارے ساتھ کام کریں۔ GovAI.pk ایک دو لسانی اصطلاحات کی فہرست رکھتا ہے تاکہ اردو میں مصنوعی ذہانت کا ایک متفقہ ذخیرۂ الفاظ ہو۔ اگر آپ مدد کرنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔

حوالہ جات