پالیسی کی وضاحت سرکاری ملازمین, ابتدائی, تمام محکمے
قومی مصنوعی ذہانت پالیسی 2025: اُس افسر کے لیے وضاحت جسے اس پر عمل کرنا ہے
پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کیا کہتی ہے، سرکاری شعبے اور افسران سے کیا تقاضا کرتی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے، اور یہ ابھی کیا نہیں کرتی۔
آخری نظرثانی: . نظرثانی کنندہ: Muhammad Asadullah.
یہ اردو خلاصہ ہے۔ صفحات اور حصوں کے حوالوں کے ساتھ مکمل وضاحت انگریزی میں دستیاب ہے۔
ایک پیرا میں
وفاقی کابینہ نے 30 جولائی 2025 کو قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کی منظوری دی۔ اس کی ذمہ دار وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) ہے۔ پالیسی بتاتی ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کا ایسا نظام کیسے بنانا چاہتا ہے جو ذمہ داری اور اخلاقیات کے ساتھ استعمال ہو: تحقیق اور اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈ، بڑے پیمانے پر تربیت، ڈیٹا کا تحفظ، سرکاری خدمات اور اہم شعبوں میں مصنوعی ذہانت، کمپیوٹنگ کا بنیادی ڈھانچہ اور بین الاقوامی تعاون۔ یہ ایک پالیسی ہے، پارلیمنٹ کا قانون نہیں۔ یہ سمت اور اہداف طے کرتی ہے، مگر بذاتِ خود افسران پر کوئی قانونی ذمہ داری یا سزا عائد نہیں کرتی۔
سرکاری شعبے سے کیا تقاضا ہے
- سرکاری ملازمین کی تربیت: اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کی بنیادی باتوں، اخلاقی استعمال، ڈیٹا گورننس اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ پر خصوصی نصاب۔ ہدف یہ ہے کہ کم از کم 70 فیصد موجودہ ملازمین اور تمام نئے بھرتی ہونے والوں کو تربیت دی جائے۔
- شفافیت: سرکاری شعبے میں استعمال ہونے والے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کا ایک عوامی رجسٹر۔ دیکھیں شفافیت (Transparency)۔
- انسانی نگرانی: اہم کاموں میں، خاص طور پر زیادہ خطرے والی صورتوں میں، انسانی نگرانی (Human oversight) کا انتظام، اور زیادہ اثر والے نظاموں کا اثرات کا جائزہ (Impact assessment) اور آڈٹ۔
- ڈیٹا کا تحفظ: ملٹی فیکٹر تصدیق، عہدے کی بنیاد پر رسائی اور وقتاً فوقتاً رسائی کا جائزہ۔
- شعبہ جاتی منصوبے: گورننس سمیت ترجیحی شعبوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے روڈ میپ۔
ذمہ دار کون ہے
- AI کونسل: وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کی سربراہی میں اعلیٰ ترین ادارہ۔
- پالیسی امپلیمنٹیشن سیل: وزارتِ آئی ٹی کے اندر روزمرہ عمل درآمد۔
- AI ڈائریکٹوریٹ: مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے، جسے پالیسی نیشنل کمیشن فار پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن کے تحت رکھتی ہے۔
- مصنوعی ذہانت کے مراکزِ فضیلت: تحقیق، تربیت اور تجرباتی ضابطہ کار ماحول (Regulatory sandbox) میں مدد کا قومی نیٹ ورک۔
پالیسی ابھی کیا نہیں کرتی
- یہ قانون نہیں ہے۔ پالیسی خود واضح سزاؤں والے قانونی ڈھانچے کا مطالبہ کرتی ہے، یعنی ایسا ڈھانچہ ابھی موجود نہیں۔
- ڈیٹا کے تحفظ کا قانون اُس وقت مسودے کی شکل میں تھا۔ اس پر انحصار سے پہلے موجودہ قانونی صورتحال معلوم کریں۔
- خطرات کے درجے طے نہیں۔ پالیسی زیادہ خطرے والی صورتوں کا ذکر کرتی ہے مگر خطرات کی باقاعدہ درجہ بندی نہیں کرتی۔
آپ ابھی کیا کر سکتے ہیں
- سرکاری معلومات کے لیے صرف محکمے کے منظور شدہ آلات استعمال کریں، اور خفیہ مواد یا شہریوں کا ذاتی ڈیٹا کبھی عوامی چیٹ بوٹ میں نہ ڈالیں۔
- مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہونے والے ہر فیصلے کی ذمہ داری کسی انسان کے پاس رکھیں۔
- نوٹ کریں کہ آپ کا دفتر کہاں مصنوعی ذہانت استعمال کرتا ہے۔
- تربیت ملے تو ضرور حاصل کریں، اور سرکاری ملازمین کے لیے ہماری رہنمائی سے آغاز کریں۔
بنیادی ماخذ: https://www.moitt.gov.pk/SiteImage/Misc/files/National%20AI%20Policy.pdf