راستہ: فرنٹ لائن اور معاون عملے کے لیے مصنوعی ذہانت (بی پی ایس 1 تا 16) 8 میں سے ماڈیول 8

سینئر سے کب پوچھیں

کام میں مصنوعی ذہانت کی حدود پہچاننا: فیصلے، حساس معاملات اور ہر وہ بات جس میں شک ہو، اپنے افسر کے پاس لے جائیں۔

آخری نظرثانی: . نظرثانی کنندہ: Muhammad Asadullah.

یہ اردو خلاصہ ہے۔ مکمل ماڈیول انگریزی میں دستیاب ہے۔

فیصلہ مشین کے حوالے نہیں: مصنوعی ذہانت کام تیز کر سکتی ہے، مگر فیصلے کی ذمہ داری نہیں لے سکتی۔ درخواست مکمل ہے یا نہیں، فیس معاف ہو سکتی ہے یا نہیں، شکایت منظور ہو یا نہیں، یہ سب فیصلے ہیں جن کا ایک ذمہ دار افسر ہوتا ہے۔ اسے انسانی نگرانی (Human oversight) کہتے ہیں۔

چیٹ بوٹ کی رائے صرف اندازہ ہے: اگر چیٹ بوٹ کہے کہ "یہ درخواست مسترد ہونی چاہیے" تو اسے فیصلہ نہ سمجھیں۔ کیس اپنے افسر کے پاس لے جائیں۔

کب رک کر پوچھیں: جب معاملے میں صحت، پیسے، خاندانی تنازع، پولیس یا بچوں جیسی حساس باتیں ہوں؛ جب جواب کسی کے حق یا رقم پر اثر ڈالے؛ جب چیٹ بوٹ کا جواب قواعد سے میل نہ کھائے؛ جب آپ خود جواب سمجھا نہ سکیں؛ جب شہری پریشان یا مجبور ہو؛ یا جب کوئی دستاویز یا درخواست مشکوک لگے۔

اچھا سوال کیسے کریں: ایک دو جملوں میں کیس بتائیں، آپ نے کیا جانچا اور کیا پایا، اور ٹھیک کس بات میں شک ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت استعمال کی ہے تو بتائیں اور اس کی تجویز دکھائیں۔ اسے کبھی اپنا جانچا ہوا کام بنا کر پیش نہ کریں۔

مصنوعی ذہانت کا جائز استعمال: دفتر کے قواعد کے اندر اور ذاتی ڈیٹا کے بغیر آپ اب بھی اس سے حقائق کا غیر جانبدار خلاصہ، بکھرے نوٹس سے صاف نوٹ، یا کسی عام قاعدے کی آسان وضاحت لکھوا سکتے ہیں، جسے پھر اصل عبارت سے ملائیں۔

ذمہ داری انسان کی: ہر فیصلے کے پیچھے ایک انسان کا نام ہونا چاہیے۔ دیکھیں جوابدہی (Accountability)۔