رہنمائی سب کے لیے, ابتدائی, محفوظ استعمال
کیا یہ تصویر یا ویڈیو اصلی ہے؟ مصنوعی ذہانت اور ایڈیٹنگ کی جانچ
مصنوعی ذہانت ایسی تصاویر اور ویڈیوز بنا یا بدل سکتی ہے جو اصلی لگتی ہیں۔ کوئی ایک طریقہ اسے ثابت نہیں کرتا، مگر چند جانچیں آپ کو فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
آخری نظرثانی: . نظرثانی کنندہ: Muhammad Asadullah.
یہ پہلے سے مشکل کیوں ہو گیا ہے؟
مصنوعی ذہانت کے تصویر سازی (Image generation) والے ٹولز چند الفاظ کی تحریر سے حقیقت جیسی تصویر بنا سکتے ہیں۔ دوسرے ٹولز چہرے بدل سکتے ہیں، ویڈیو میں کسی کی کہی ہوئی بات بدل سکتے ہیں یا منظر سے چیزیں ہٹا سکتے ہیں۔ ڈیپ فیک (Deepfake) کسی حقیقی شخص کی جعلی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ کو کہتے ہیں۔
چند سال پہلے جعلی تصاویر میں اکثر واضح غلطیاں ہوتی تھیں۔ آج اُن میں سے بہت سی غلطیاں دور ہو چکی ہیں۔ جو طریقے آپ نے پچھلے سال انٹرنیٹ پر پڑھے تھے، ممکن ہے اب کام نہ کریں۔
کوئی ایک طریقہ قابلِ بھروسا نہیں
آپ نے سنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کی تصاویر میں ہاتھ ہمیشہ غلط بنتے ہیں۔ یہ بھی سنا ہوگا کہ جعلی ویڈیوز میں لوگ پلک نہیں جھپکتے۔ پرانے ٹولز کے بارے میں یہ کبھی کبھی درست تھا۔ نئے ٹولز اکثر یہ غلطیاں نہیں کرتے۔
اصلی تصاویر بھی عجیب لگ سکتی ہیں۔ کم روشنی، سستا کیمرہ اور واٹس ایپ کی طرف سے تصویر کو چھوٹا کرنا، یہ سب کسی اصلی تصویر کو بھی عجیب بنا سکتے ہیں۔
یہی احتیاط "اے آئی ڈیٹیکٹر" ویب سائٹس اور ایپس کے بارے میں بھی ہے۔ یہ ایک مفید اشارہ ہو سکتی ہیں، مگر دونوں طرف غلطی کرتی ہیں۔ اصلی تصویر کو جعلی قرار دیا جا سکتا ہے اور جعلی تصویر اصلی کے طور پر گزر سکتی ہے۔
اس لیے ہر جانچ کو ایک سراغ سمجھیں۔ کئی سراغ مل کر کسی ایک سے زیادہ بتاتے ہیں۔
کن باتوں پر نظر رکھیں
تصاویر میں
- ہاتھ، کان، دانت اور زیورات جو پگھلے ہوئے، آپس میں جڑے ہوئے یا بے ڈھنگے لگیں
- بورڈز، قمیضوں یا بینرز پر تحریر جو دھندلی ہو یا اصلی الفاظ نہ ہوں
- پس منظر جہاں لکیریں مڑ جائیں، عمارتیں ٹیڑھی ہوں یا لوگ ایک دوسرے میں گھل جائیں
- جلد جو حد سے زیادہ ہموار ہو، تقریباً پلاسٹک جیسی
- سائے اور روشنی جو مختلف سمتوں سے آتی محسوس ہوں
ویڈیوز میں
- ہونٹ جو الفاظ سے پوری طرح نہ ملیں
- سر گھومنے پر چہرے کے کنارے دھندلے ہوں یا جھلملائیں
- آواز سپاٹ لگے، اس میں عجیب وقفے ہوں یا لہجہ غلط ہو
- بہت مختصر کلپس جن کا کوئی وسیع تر پس منظر نہ ہو
تصویر یا ویڈیو کے اردگرد
- اسے سب سے پہلے کس نے اور کب پوسٹ کیا
- کیا اکاؤنٹ نیا ہے یا سنسنی خیز پوسٹوں کی تاریخ رکھتا ہے
- کیا معتبر خبر رساں ادارے بھی یہی تصویر یا ویڈیو دکھا رہے ہیں
آسان جانچیں جو آپ خود کر سکتے ہیں
- تصویر کے ذریعے سرچ کریں۔ بہت سی سرچ ایپس الفاظ کے بجائے تصویر سے تلاش کی سہولت دیتی ہیں۔ اسے عموماً ریورس امیج سرچ (Reverse image search) کہتے ہیں۔ اس سے پتا چل سکتا ہے کہ کیا یہ تصویر پہلے بھی، شاید کسی اور کہانی کے ساتھ، آ چکی ہے۔
- اصل تلاش کریں۔ سب سے لمبا اور سب سے صاف ورژن ڈھونڈیں۔ جعلی مواد اکثر کٹی ہوئی اور دھندلی نقلوں کی شکل میں پھیلتا ہے۔
- ذریعہ جانچیں۔ اگر کہا جائے کہ ویڈیو کسی نیوز چینل کی ہے تو وہ اُس چینل کے اپنے تصدیق شدہ اکاؤنٹس پر ہونی چاہیے۔
- لیبل دیکھیں۔ کچھ پلیٹ فارمز اور ٹولز مصنوعی ذہانت سے بنے مواد پر نظر آنے والے لیبل یا چھپے نشان لگاتے ہیں۔ اسے واٹر مارکنگ (Watermarking) کہتے ہیں۔ لیبل نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ مواد اصلی ہے۔
- کسی اور سے پوچھیں۔ دوسری نظر اکثر وہ چیز پکڑ لیتی ہے جو آپ سے رہ گئی۔
مشکوک تصویر یا ویڈیو کا کیا کریں
- جب تک یقین نہ ہو، آگے نہ بھیجیں۔ شک رکنے کی اچھی وجہ ہے۔
- تصدیق سے پہلے اسے ثبوت کے طور پر استعمال نہ کریں، نہ بحث میں، نہ شکایت میں اور نہ کسی خبر میں۔
- پلیٹ فارم پر رپورٹ کریں اگر لگے کہ یہ دھوکا دینے، ہراساں کرنے یا کسی کی ساکھ خراب کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
- اگر اس میں آپ یا آپ کے خاندان کا کوئی فرد جعلی یا شرمناک انداز میں دکھایا گیا ہو تو اسکرین شاٹس اور لنکس محفوظ کریں۔ پھر جرم کی رپورٹ کریں: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی سائبر کرائم ہیلپ لائن 1799 پر کال کریں۔
اگر کسی نے آپ کی جعلی تصویر بنائی ہے تو قصور اُس کا ہے، آپ کا نہیں۔ اسے پھیلانے کی دھمکی دینے والے کو کبھی پیسے نہ دیں۔
اصلی تصاویر بھی گمراہ کر سکتی ہیں
اصلی تصویر کے ساتھ جھوٹی تحریر بھی گمراہ کن ہوتی ہے۔ دو سوال پوچھیں: کیا تصویر اصلی ہے؟ کیا اس کے ساتھ جڑی کہانی سچ ہے؟
فارورڈ کی گئی پوسٹوں اور افواہوں کے لیے دیکھیے جعلی خبریں آگے بھیجنے سے پہلے پہچانیں۔