راستہ: سرکاری تعلیم میں مصنوعی ذہانت 5 میں سے ماڈیول 4
طلبہ کا ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت
اسکولوں اور کالجوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران بچوں اور طلبہ کے ذاتی ڈیٹا کا تحفظ، بشمول عمر، رضامندی اور اس کے کہ چیٹ بوٹ میں کیا کبھی نہ ڈالا جائے۔
آخری نظرثانی: . نظرثانی کنندہ: Muhammad Asadullah.
یہ اردو خلاصہ ہے۔ مکمل ماڈیول انگریزی میں دستیاب ہے۔
یہ کیوں اہم ہے: اسکولوں کے پاس طلبہ کے نام، تاریخِ پیدائش، خاندانی تفصیلات، نمبر، حاضری، صحت اور بعض اوقات نظم و ضبط کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ اس کا بڑا حصہ بچوں سے متعلق ہے جو خود اپنا تحفظ نہیں کر سکتے۔ اس ڈیٹا کی حفاظت دیکھ بھال کا بنیادی فرض ہے۔ دیکھیں ذاتی ڈیٹا (Personal data)۔
بنیادی اصول: طلبہ کا قابلِ شناخت ڈیٹا کبھی کسی ایسے عوامی چیٹ بوٹ یا آلے میں نہ ڈالیں جس کی آپ کے محکمے نے اس ڈیٹا کے لیے منظوری نہ دی ہو۔ اصل نام اور نمبر کی جگہ "طالب علم A" اور "[نمبر]" لکھیں، اور صرف وہی تفصیل دیں جو کام کے لیے ضروری ہو۔ دیکھیں کم سے کم ڈیٹا کا اصول (Data minimisation)۔
عمر اور رضامندی: بہت سی سروسز کی کم از کم عمر مقرر ہے۔ طلبہ کو کوئی آلہ استعمال کروانے سے پہلے اس کی شرائط اور اپنے محکمے کی ہدایات دیکھیں، والدین کو واضح بتائیں کہ آلہ کیا ہے اور کون سا ڈیٹا جمع کرتا ہے، اور جہاں ضروری ہو رضامندی (Consent) لیں۔
تصاویر اور آوازیں: طلبہ کی تصاویر یا ریکارڈنگ کسی بھی آلے پر اپ لوڈ نہ کریں جب تک محکمے نے منظوری نہ دی ہو اور خاندان راضی نہ ہوں۔ ایک بار شیئر ہونے والی تصویر برسوں غلط استعمال ہو سکتی ہے۔
غلطی ہو جائے تو: آلے کا استعمال روکیں، فوراً ہیڈ ٹیچر یا ڈیٹا کے ذمہ دار افسر کو بتائیں، نوٹ کریں کہ کیا، کہاں اور کب شیئر ہوا، اور محکمے کی ہدایات کے مطابق رپورٹ کریں۔ غلطی چھپانے سے نقصان بڑھتا ہے۔