راستہ: پولیس اور عوامی تحفظ میں مصنوعی ذہانت 4 میں سے ماڈیول 3

ڈیپ فیک اور ڈیجیٹل شواہد

شکایات اور شواہد میں جعلی آڈیو، ویڈیو اور تصاویر کیسے آ سکتی ہیں، اور ڈیجیٹل مواد کو محفوظ رکھنا، اس کی تصدیق کرنا اور فرانزک ماہرین کو بھیجنا۔

آخری نظرثانی: . نظرثانی کنندہ: Muhammad Asadullah.

یہ اردو خلاصہ ہے۔ مکمل ماڈیول انگریزی میں دستیاب ہے۔

یہ کیوں اہم ہے: ڈیپ فیک (Deepfake) اور آواز کی نقل (Voice cloning) کسی بے گناہ پر الزام یا جھوٹی شکایت کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف کوئی اصل ریکارڈنگ کو بھی "ڈیپ فیک" کہہ کر رد کر سکتا ہے۔ ڈیجیٹل مواد کو نہ آنکھ بند کر کے قبول کریں نہ بغیر جانچ کے رد کریں۔ عوام کے لیے ڈیپ فیک اور آواز کے فراڈ کی رہنمائی دیکھیں۔

ظاہری علامات قابل اعتماد نہیں: اچھے جعلی مواد میں کوئی علامت نہیں ہوتی اور اصل مواد بھی خراب آلات کی وجہ سے عجیب لگ سکتا ہے۔ آن لائن "ڈیپ فیک ڈیٹیکٹر" پر فیصلہ نہ کریں اور مواد وہاں اپ لوڈ نہ کریں۔

مواد محفوظ رکھنا: جہاں ممکن ہو اصل فائل لیں، آگے بھیجی گئی نقل نہیں۔ لکھیں کہ کس نے، کب اور کس آلے سے دیا۔ اصل میں ترمیم نہ کریں، صرف نقل پر کام کریں۔ ہر ہاتھ لگانے والے کا ریکارڈ رکھیں۔ عوامی آلات میں اپ لوڈ نہ کریں۔ مواد کا ماخذ (Content provenance) محفوظ رہنا ضروری ہے۔

ماہرین کو بھیجیں: جب مواد بطور ثبوت استعمال ہو سکتا ہو، اس کی صحت پر اختلاف ہو، کسی شخص کے خلاف الزام اسی پر قائم ہو، یا ترمیم کا شبہ ہو، تو فرانزک ماہرین کو اپنے محکمے کے طریقہ کار کے مطابق بھیجیں۔ تب تک اسے غیر تصدیق شدہ سمجھیں اور دوسرے شواہد تلاش کریں۔

انصاف اور حساسیت: جعلی مواد میں دکھائے گئے لوگ، خاص طور پر نجی تصاویر کے معاملے میں، سنگین نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایسا مواد کم سے کم لوگ دیکھیں اور متاثرہ شخص کی مدد کریں۔